میرے جسم کے سارے اعضاء نکال لو لیکن میرے شوہر کو بچالو، وہ میرا جگر ھے!!یہ بھی اِسی مفاد پرست اور خُود غرض سماج کی ایک ناقابلِ فراموش داستان ھے جہاں رشتے دن بہ دن کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں، محبت کا بھاؤ تیزی سے گر رہا ھے.شوہر بیمار ہوا، ڈاکٹروں نے لیور ٹرانسپلانٹ تجویز کیا.اب مسئلہ یہ تھا کہ لیور کا ٹشو کہاں سے ملے؟؟؟
بیوی ڈونر بن گئی اور اُس نے اپنے "جگر" کو جگر کا ٹُکرا دے ڈالا ، اللہ تعالیٰ کے کرم سے اُس کی جان بچ گئی محبت "بنجارن" ہوجاۓ تو خیر ھے، بس یہ "بنجر" نہیں ہونی چاہئے
